Friday, 1 October 2021

Nazm_Hasil_E_Zindagi_Poet_Shabnam Firdaus

حاصلِ زندگی


وہ جب ناراض ہوتا ہے 
میں اکثر اس سے کہتی ہوں 
ہزاروں عیب ہیں مجھ میں 
تو رشتہ توڑ لو نہ تم 
مجھے پھر چھوڑ دو ناں تم 
وہ کچھ لمحے تو بالکل چپ ہو جاتا ہے 
امڈتے اشکوں کو اپنے
 چھپا کر پلکوں کے پیچھے
دبا کر درد سینے میں 
بڑے ہی پیار سے بے ربط لہجے میں
مرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر تھپکتا ہے 
وہ کہتا ہے 
دوبارہ ہجر کی باتیں نہ کرنا تم 
مرا دل ایسی باتوں سے دھڑکنا بھول جاتا ہے 
مری سانسیں اٹکتی ہیں
زمیں رکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے 
مری جاں سوچ کر دیکھو 
کبھی ایسا جو ہو جائے 
زمیں چلنے سے رک جائے 
تباہ ہو جائے گی دنیا 
نہ دن سے رات ہو گی اور نہ کوئی رُت ہی بدلے گی 
جدھر نظریں اٹھیں گی پھر 
بیاباں دشت ہی ہو گا 
مری جاں یاد رکھنا تم 
میں زندہ ہوں فقط جو ساتھ ہے تیرا 
رہیں سانسیں مری چلتی 
ضروری پیار ہے تیرا 
میں یہ بھی جانتا ہوں جاں
ذرا ہوں تیز غصے کا 
مگر تم ہو جنوں میرا 
یہ ہے معلوم تم کو بھی 
ہو حاصل زندگی کا تم 
چلو مانا کہ تم کو چھوڑ دیتا ہوں 
میں رشتہ توڑ لیتا ہوں 
مگر بولو
مرے بن رہ سکو گی تم ؟ 
 نہ کوئی خواب ٹوٹے گا ؟
لبوں پہ درد کا نغمہ نہیں ہو گا 
میں سن کے ساری باتوں کو 
بہت حیران ہوتی ہوں 
کہ میری کیفیت سے کس قدر ہی آشنا ہے وہ 
میں سر اپنا خموشی سے لگا کر اس کے کاندھے سے 
میں آنکھیں موند لیتی ہوں 
مجھے پھر دیکھ کر یوں مسکراتا ہے 
اُسے اپنے سوالوں کے سبھی حل مل گئے جیسے

شبنم فردوس

Labels: , , , ,