Monday, 31 May 2021

Nazm ‎(‎نظم) ‏_ ‏Patjhar

پت جھڑ

 بن موسم کا پت جھڑ ہے یہ
گلشن ، گلشن
ویرانی ہے 
سڑکیں سونی
گلیاں سونی 
ہر گھر کے دروازے   بند 
وحشت ہے ، 
بے چینی ہے  
آنکھوں سے ہیں
 نیندیں غائب
خوابوں کی شاخیں
 سوکھ رہی ہیں 
اجلے ،اجلے کپڑوں میں 
موت کی دیوی  گھوم رہی ہے 
لاشیں ،
لاشیں
 ہر سو لاشیں 
آنکھیں  ایسے  سوکھ گئی ہیں 
جیسے جیٹھ میں 
 ندیاں سوکھیں
شبنم فردوس


पतझड़

बिन मौसम का पतझड़ है ये
गुलशन गुलशन 
वीरानी है
सड़कें सूनी
गालियां सूनी
हर घर के दरवाज़े बंद
वहशत है,
बेचैनी है
आंखों से हैं 
नींदें गायब
ख्वाबों की शाख़ें 
सूख रही हैं
उजले उजले कपड़ों में
मौत की देवी घूम रही है
लाशें,
लाशें
हर सू लाशे
आंखे ऐसे सूख गई है
 जैसे जेठ में 
नदियां सूखे

शबनम फिरदौस

Labels: , , ,

Thursday, 27 May 2021

hijr

ہجر

کہا کرتے تھے تم مجھ سے
محبت دائمی ہے جاں
کبھی مرتی نہیں ہے یہ
کوئی بھی روپ دھارے یہ
ہمیشہ سنگ رہتی ہے
محبت آس ہوتی ہے
شبِ تاریک میں اکثر
نویدِ صبح لاتی ہے
محبت ایک خوشبو ہے
یہ اپنے سحر میں ہم کو
ہمیشہ قید رکھتی ہے
محبت راگ جیسی ہے
کسی نغمے کی صورت میں
لبوں پہ رقص کرتی ہے
محبت ابر جیسی ہے
کسی بنجر زمیں پہ جب برستی ہے
بہاریں لوٹ آتی ہیں
کہا تو سچ ہی تھا تم نے
محبت ابر ہے جاناں
مگر اسکی طبیعت میں بہت ہی بے قراری ہے
یہ اک جا ٹک نہیں سکتی
جہاں پہ یہ برستی ہے
بہاریں لوٹ آتیں ہیں
کہا تو سچ ہی تھا تم نے
مگر پھر وقت کی گرمی نمی کو چوس لیتی ہے
محبت بھاپ بن کر اڑنے لگتی ہے
نئے بادل بناتی ہے
ہوا کے رخ بدلتے ہیں
نئے جذبے پنپتے ہیں
یہ ہجرت کرنے لگتی ہے
کسی دوجے کی چاہت میں
مگر جس جا سے جاتی ہے
وہاں پودوں کی شاخوں پر خزائیں لوٹ آتی ہیں
زمینیں خشک ہوتی ہیں
دراڑیں پڑنے لگتی ہیں
تمنا کے گلابوں پر نزع کی کیفیت بے رحم پنجوں سے مسلّط ہونے لگتی ہے
سبھی خوش رنگ امّیدوں کی ڈوریں ٹوٹ جاتی ہیں
لبوں پہ رقص کرتے راگ سارے بھول جاتے ہیں
وفا کے نام پہ قسمیں یہ سارے عہد اور پیماں
کسی شیشے کی صورت میں چٹخ کے ٹوٹ جاتے ہیں
دیے تھے ہاتھ جو ہاتھوں میں آخر چھوٹ جاتے ہیں
شبنم فردوس

Labels: , ,

Tuesday, 25 May 2021

Nazm ‎(نظم) ‏_Gumaan

گمان

کھڑی تھی کل جو ٹیرس پہ
فلک کو تک رہی تھی میں
 اچانک ہی نظر میری
 ہوا کے دوش پہ اڑتے سکائ لارک پر پہنچی
 اسے دیکھا ہواؤں سے جو میں نے گفتگو کرتے
  اٹھی خواہش مرے دل میں
 فضا میں سانس لوں کھل کے
 اڑوں میں بھی کبھی ایسے 
  کہ چھو لوں آسماں جاکے
 چلوں میں سنگ بادل کے
 ہوا سے گفتگو کر لوں
 ستاروں پہ قدم رکھ لوں
 میں اپنی سوچ میں گم تھی
 کہ اک آواز سے چونکی 
 پلٹ کے میں نے جو دیکھا
 ہوئی حیران میں بالکل
 کھڑی تھی رو برو میرے 
 پری صورت کوئی بچی
 چھوئی موئی سی تھی بالکل
 بنی ہو برف کی جیسے
 کہ چھولوں میں اگر آسکو
 پگھل جائے گی لمحے میں
 کہ جیسے برف سورج کی تپش پا کے بنے پانی
  سنہری کانچ سی آنکھیں
 بڑی پر نور سی آنکھیں 
  لبوں پر مسکراہٹ تھی
 کہ جیسے ہے بڑی گہری شناسائی
 سنہری ڈور کے جیسا تعلق ہو ہمارے درمیاں کوئی
  ہوئی مسحور میں ایسی
 کئی لمحے کوئی حرکت نہ کر پائی 
 بڑھایا پھر قدم میں نے
 اسے چھو کر ذرا دیکھوں
 مگر اس نے اسی لمحے
 پلک اپنی یوں جھپکائی 
 کہ جیسے کہہ رہی ہو وہ
 چلو اک گیم کھیلیں ہم
 وہی اسٹاپ ان اسٹیچو (stop n statue) بچے کھیلتے ہیں جو
   سمجھ کے بات کو اسکی
 قدم یوں رک گئے میرے
 کہ جیسے بت ہوں پتھر کی
 اسے دیکھے گئ بس میں
 اسی لمحے
 اچانک لب ہلے اسکے
 کہا پھر ماں مجھے اس نے
 مرے پتھر کے اس تن میں
 حرارت زندگی کی برق رفتاری سے یوں دوڑی
 بنا سوچے بنا سمجھے
 پکڑنا جو اسے چاہا
 زمیں پہ گر پڑی دھم سے
 نہیں تھی وہ کہیں پر بھی
 ہوا محسوس پھر مجھکو
 پری زادی جو آئی تھی
 تخیل تھی فقط میرا
 جسے برسوں سے اکثر دیکھتی ہوں خواب میں اپنے 
 حقیقت سے نہیں ہے واسطہ کوئی
مگر رشتہ انوکھا ہے
شناسائی پرانی ہے
فردوس

Labels: , , ,

Saturday, 22 May 2021

Nazm ‎( نظم ‏) ‏_ ‏यादों की दस्तक

یادوں کی دستک

بارشوں کے موسم میں
دل کی 
سونی بستی میں
یادوں نے
 پھر دستک دی 
اس سہانے موسم میں 
تم جو سنگ نہیں  میرے 
بے بسی کے عالم میں
میں بکھر گئی جاناں
شبنم فردوس

यादों की दस्तक

बारिशों के मौसम में 
दिल की 
सुनी बस्ती में
यादों ने 
फिर दस्तक दी 
इस सुहाने मौसम में
तुम जो संग नही मेरे
बेबसी के आलम में 
मै बिखर गई जानां

शबनम फिरदौस

Labels: , ,

Wednesday, 19 May 2021

पतझड़

پت جھڑ

 بن موسم کا پت جھڑ ہے یہ
گلشن ، گلشن
ویرانی ہے 
سڑکیں سونی
گلیاں سونی 
ہر گھر کے دروازے   بند 
وحشت ہے ، 
بے چینی ہے  
آنکھوں سے ہیں
 نیندیں غائب
خوابوں کی شاخیں
 سوکھ رہی ہیں 
اجلے ،اجلے کپڑوں میں 
موت کی دیوی  گھوم رہی ہے 
لاشیں ،
لاشیں
 ہر سو لاشیں 
آنکھیں  ایسے  سوکھ گئی ہیں 
جیسے جیٹھ میں 
 ندیاں سوکھیں
شبنم فردوس


पतझड़

बिन मौसम का पतझड़ है ये
गुलशन गुलशन 
वीरानी है
सड़कें सूनी
गालियां सूनी
हर घर के दरवाज़े बंद
वहशत है,
बेचैनी है
आंखों से हैं 
नींदें गायब
ख्वाबों की शाख़ें 
सूख रही हैं
उजले उजले कपड़ों में
मौत की देवी घूम रही है
लाशें,
लाशें
हर सू लाशे
आंखे ऐसे सूख गई है
 जैसे जेठ में 
नदियां सूखे

शबनम फिरदौस

Labels: , , ,

Sunday, 9 May 2021

کمی

کمی
چلو ہم مان لیتے ہیں 
کسی کے چھوڑ جانے سے 
نہیں موجود رہنے سے 
نہیں کچھ فرق پڑتا ہے 
زمیں چلتی ہی رہتی ہے 
نہیں اک پل بھی رکتی ہے 
فلک   میں تارے سجتے  ہیں ، 
نکلتا شمس ہے ہر دن  
چہکتی رہتی ہے چڑیا 
مہکتا رہتا ہے گلشن 
کہاں کچھ بھی بدلتا ہے
مگر 
اس شخص سے پوچھو 
کسی کو  کھو دیا  جس نے  
کہ اس پر کیا گزرتی ہے
قیامت ٹوٹ پڑتی ہے 
زمیں اس کی کھسکتی ہے 
چمن اسکا اجڑتا ہے
خزاں کے زرد پتوں کی طرح وہ تو بکھرتا ہے  
کسی تاریک کونے میں 
وہ نوحہ خوانی کرتا ہے 
لہو آنکھوں سے رستے ہیں 
ہزاروں خواب مرتے ہیں 
وہ زندہ  ہوتے ہوئے بھی
کہاں زندہ ہی رہتا ہے 

شبنم فردوس

Labels: , , ,

Thursday, 6 May 2021

مکافات_عمل

مکافات عمل
ہاں
کہاں ہم کو
معلوم تھا
ایک دن
اس قدر
منہ کی کھائیں گے ہم
اور غلاظت کی دلدل میں دھنس جائیں گے
ہاں
کہاں ہم کو معلوم تھا
وائرس
ہم پہ ہوگا مسلط کبھی
اور خدائی ہماری رہے گی دھری
ہاتھ دھو ،دھو کے چمڑے ادھڑ جائیں گے
صاف ہوں گے نہیں
دست _ عیسی بھی
اب تو میسر نہیں
رات گزرے گی اپنی
ٹہلتے ہوئے
بڑبڑاتے ہوئے
موت سے خوف کھاتے ہوئے
شبنم فردوس

Labels: , , , , ,