Thursday, 21 May 2020

نظم ‎ ‏ ‏( ‎urdu ‎poems ‎)

A Long Walk Home
(اے شہر زادو الوداع)

جا رہے ہیں
شہر اب ہم چھوڑ کر 
اے شہر  زادو الوداع 
لوٹ کر اب تو نہ آئیں گے کبھی بھی  
یہ تمہارا شہر ہم کو 
راس بالکل ہی نہ آیا
مدتوں سے رہ رہے تھے
خوں پسینہ دے رہے تھے
آج بھوکے مر رہے تو پوچھنے والا نہ کوئی
دیکھ لی یاری تمہاری
ہو مبارک 
تم کو اپنا شہر یارو
جارہے ہیں ہم تو پیدل شہر زادو
ہاں کٹھن ہے راستہ اور
دور اپنا دیس بھی 
لیکن ہمارے پاس بھی چارہ نہ کوئی 
درمیان_اجنبی 
مرنے سے بہتر تو یہی 
اپنے گھروں کے راستے ہی مر مٹیں ہم
جارہے ہیں شہر ہم اب
چھوڑ کر 
اے شہر زادو الوداع
 شبنم فردوس

Labels: ,