Rahat Indori -Ghazal - Main lakh kahdun k aakash hun zamin hun main
میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں مگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میں عجیب لوگ ہیں میری تلاش میں مجھ کو وہاں پہ ڈھونڈ رہے ہیں جہاں نہیں ہوں میں میں آئنوں سے تو مایوس لوٹ آیا تھا مگر کسی نے بتایا بہت حسیں ہوں میں وہ ذرے ذرے میں موجود ہے مگر میں بھی کہیں کہیں ہوں کہاں ہوں کہیں نہیں ہوں میں وہ اک کتاب جو منسوب تیرے نام سے ہے اسی کتاب کے اندر کہیں کہیں ہوں میں ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں یہیں حسین بھی گزرے یہیں یزید بھی تھا ہزار رنگ میں ڈوبی ہوئی زمیں ہوں میں یہ بوڑھی قبریں تمہیں کچھ نہیں بتائیں گی مجھے تلاش کرو دوستو یہیں ہوں میں راحے اندوری मैं लाख कह दूँ कि आकाश हूँ ज़मीं हूँ मैं मगर उसे तो ख़बर है कि कुछ नहीं हूँ मैं अजीब लोग हैं मेरी तलाश में मुझ को वहाँ पे ढूँड रहे हैं जहाँ नहीं हूँ मैं मैं आइनों से तो मायूस लौट आया था मगर किसी ने बताया बहुत हसीं हूँ मैं वो ज़र्रे ज़र्रे में मौजूद है मगर मैं भी कहीं कहीं हूँ कहाँ हूँ कहीं नहीं हूँ मैं वो इक किताब जो मंसूब तेरे नाम से है उसी किताब के अंदर कहीं कहीं हूँ मैं सितारो आओ मिरी राह में बिख...