Zamana Aaya Hai Behijabi ka ( Bang_e_Dara) /Poet _ Allama Iqbal
مارچ 1907ء ( بانگِ درا ) زمانہ آيا ہے بے حجابي کا ، عام ديدار يار ہو گا سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا گزر گيا اب وہ دور ساقي کہ چھپ کے پيتے تھے پينے والے بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئي بادہ خوار ہو گا کبھي جو آوارہ جنوں تھے ، وہ بستيوں ميں پھر آ بسيں گے برہنہ پائي وہي رہے گي مگر نيا خارزار ہو گا سنا ديا گوش منتظر کو حجاز کي خامشي نے آخر جو عہد صحرائيوں سے باندھا گيا تھا ، پھر استوار ہو گا نکل کے صحرا سے جس نے روما کي سلطنت کو الٹ ديا تھا سنا ہے يہ قدسيوں سے ميں نے ، وہ شير پھر ہوشيار ہو گا کيا مرا تذکرہ جوساقي نے بادہ خواروں کي انجمن ميں تو پير ميخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا ديار مغرب کے رہنے والو! خدا کي بستي دکاں نہيں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عيار ہو گا تمھاري تہذيب اپنے خنجر سے آپ ہي خود کشي کرے گي جوشاخ نازک پہ آشيانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا سفينہ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا ہزار موجوں کي ہو کشاکش مگر يہ دريا سے پار ہو گا چمن ميں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلي کلي کو يہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں ميں شمار ہو گ...