Posts

Showing posts with the label mohabbat Shayari

Ghazal _ Tere nazdeek aa ker sochta hun By Rasa Chughtai

Image
ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں جہاں موج حوادث چاہے لے جائے خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں اگر یہ محفل بنت عنب ہے تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں غم اندیشہ ہائے زندگی کیا تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں  رسا چغتائی तिरे नज़दीक आ कर सोचत...

Dagh Dehlvi : Ranj ki jab guftagu hone lagi

Image
رنج کی جب گفتگو ہونے لگی آپ سے تم تم سے تو ہونے لگی چاہیئے پیغام بر دونوں طرف لطف کیا جب دو بہ دو ہونے لگی میری رسوائی کی نوبت آ گئی ان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی ہے تری تصویر کتنی بے حجاب ہر کسی کے رو بہ رو ہونے لگی غیر کے ہوتے بھلا اے شام وصل کیوں ہمارے رو بہ رو ہونے لگی نا امیدی بڑھ گئی ہے اس قدر آرزو کی آرزو ہونے لگی اب کے مل کر دیکھیے کیا رنگ ہو پھر ہماری جستجو ہونے لگی داغؔ اترائے ہوئے پھرتے ہیں آج شاید ان کی آبرو ہونے لگی داغ دہلوی रंज की जब गुफ़्तुगू होने लगी आप से तुम तुम से तू होने लगी चाहिए पैग़ाम-बर दोनों तरफ़ लुत्फ़ क्या जब दू-ब-दू होने लगी मेरी रुस्वाई की नौबत आ गई उन की शोहरत कू-ब-कू होने लगी है तिरी तस्वीर कितनी बे-हिजाब हर किसी के रू-ब-रू होने लगी ग़ैर के होते भला ऐ शाम-ए-वस्ल क्यूँ हमारे रू-ब-रू होने लगी ना-उम्मीदी बढ़ गई है इस क़दर आरज़ू की आरज़ू होने लगी अब के मिल कर देखिए क्या रंग हो फिर हमारी जुस्तुजू होने लगी 'दाग़' इतराए हुए फिरते हैं आज शायद उन की आबरू होने लगी दाग़ देहलवी ranj ki jab guftagu hone lagī aap se tum tum se tu hone lagi  chahiye ...

kaifi Azmi: Koi ye kaese btae

Image
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن ان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے کیفی اعظمی कोई ये कैसे बताए कि वो तन्हा क्यूँ है वो जो अपना था वही और किसी का क्यूँ है यही दुनिया है तो फिर ऐसी ये दुनिया क्यूँ है यही होता है तो आख़िर यही होता क्यूँ है इक ज़रा हाथ बढ़ा दें तो पकड़ लें दामन उन के सीने में समा जाए हमारी धड़कन इतनी क़ुर्बत है तो फिर फ़ासला इतना क्यूँ है दिल-ए-बर्बाद से निकला नहीं अब तक कोई इस लुटे घर पे दिया करता है दस्तक कोई आस जो टूट गई फिर से बंधाता क्यूँ है तुम मसर्रत का कहो या इसे ग़म का रिश्ता कहते हैं प्यार का रिश्ता है जनम का रिश्ता है जनम का जो ये रिश्ता तो बदलता ...

Zeb Ghauri / Ghazal / Gahri Raat Hai Aur Tufan ka Shor Bahut

Image
  گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں لب پہ ترا اقرار ہے دل میں چور بہت نقش کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت دل کے کسی کونے میں پڑے ہوں گے اب بھی ایک کھلا آکاش پتنگیں ڈور بہت مجھ سے بچھڑ کر ہوگا سمندر بھی بے چین رات ڈھلے تو کرتا ہوگا شور بہت آ کے کبھی ویرانئ دل کا تماشا کر اس جنگل میں ناچ رہے ہیں مور بہت اپنے بسیرے پنچھی لوٹ نہ پایا زیبؔ شام گھٹا بھی اٹھی تھی گھنگھور بہت    زیب غوری गहरी रात है और तूफ़ान का शोर बहुत घर के दर-ओ-दीवार भी हैं कमज़ोर बहुत तेरे सामने आते हुए घबराता हूँ लब पे तिरा इक़रार है दिल में चोर बहुत नक़्श कोई बाक़ी रह जाए मुश्किल है आज लहू की रवानी में है ज़ोर बहुत दिल के किसी कोने में पड़े होंगे अब भी एक खुला आकाश पतंगें डोर बहुत मुझ से बिछड़ कर होगा समुंदर भी बेचैन रात ढले तो करता होगा शोर बहुत आ के कभी वीरानी-ए-दिल का तमाशा कर इस जंगल में नाच रहे हैं मोर बहुत अपने बसेरे पंछी लौट न पाया 'ज़ेब' शाम घटा भी उट्ठी थी घनघोर बहुत ज़ेब गौ़री gahrī raat hai aur tūfān kā s...

Qateel Shifai / Ghazal / Ye moajiza bhi mohabbat kabhi dekhae mujhe

Image
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا ہی سہی دوپہر نہ بھائے مجھے بہ رنگ عود ملے گی اسے مری خوشبو وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گزار کر تری زلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا وہ بد گماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیلؔ غم حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے   قتیل شفائی Ye moajiza bhi mohabbat kabhi dikhae mujhe Ki sang tujh pe gire aur zakhm aae mujhe Main apne paanv tale raundta huuñ saa.e ko Badan mira hi sahi dopahar na bhaae mujhe Ba-rang-e-ud milegi use miri khushbu Vo jab bhi chahe baḌe shauq se jalae mujhe Main ghar se teri tamanna...

Poet_kaifi Azmi Ghazal _Shor yunhi na parindon ne machaya hoga

Image
shor yūñhī na parindoñ ne machāyā hogā koī jañgal kī taraf shahr se aayā hogā peḌ ke kāTne vāloñ ko ye mālūm to thā jism jal jā.eñge jab sar pe na saaya hogā bānī-e-jashn-e-bahārāñ ne ye sochā bhī nahīñ kis ne kāñToñ ko lahū apnā pilāyā hogā bijlī ke taar pe baiThā huā hañstā panchhī sochtā hai ki vo jañgal to parāyā hogā apne jañgal se jo ghabrā ke uḌe the pyāse har sarāb un ko samundar nazar aayā hogā Kaifi  Azmi  شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا کیفی اعظمی 

،Ahmad Faraz __सुना है लोग उसे आँख भर के देखते हैं...

Image
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم...

Nazm (Kavita)___Makdi Jaal ,Poet__Shabnam Firdaus

Image
مکڑی جال جبیں پر شکن  رخ پہ رنج و الم ماتمی آنکھیں لے کے  یوں بیٹھے ہو کیوں تم ؟  اٹھو !  مکڑی جالے کو توڑو  اندھیرے کو چیرو  مرے پاس آؤ میں اب بھی وہیں ہوں  جہاں تم نے چھوڑا ہمیشہ سے ہوں  منتظر میں تو باہیں پسارے  مری آنکھیں کب  سے تمہاری ہی دہلیز پر  تھیں   مرے کان کب سے تمہاری ہی دیوار سے تھے  لگے  کب  مجھے تم صدا دو مری اور دیکھو  کبھی خود کو دیکھا بھی ہے  آئینے میں کہ تم  کیا سے کیا ہوگئے  ان دنوں میں  مگر خود کو کیسے بھلا دیکھتے تم فصیلیں جو اونچی اٹھائی تھیں  تم نے کہیں کوئی روزن دیا ہی نہیں  اندھیرا اندھیرا بلا کا اندھیرا ہے مکڑی کا ڈیرا پھنسے کوئی اس میں  نکل ہی نہ پائے  مگر اس اندھیرے سے تم کو ضیا کھینچنی ہے  اٹھو! مکڑی جالے کو توڑو اندھیرے کو چیرو  میرے پاس آؤ شبنم فردوس मकड़ी जाल *जबीं* पर *शिकन* *रुख़* पे *रंजो अलम*  मातमी आंखें ले के यूं बैठे हो क्यों तुम ? उठो । मकड़ी जाले को तोड़ो  अंधेरे को चीरो मेरे पास आओ मैं अब भी वहीं हूं...