Ghazal: Rasta bhi kathin dhuup me shiddat bhi...by Perveen Shakir
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی پروین شاکر रस्ता भी कठिन धूप में शिद्दत भी बहुत थी साए से मगर उस को मोहब्बत भी बहुत थी खे़मे न कोई मेरे मुसाफ़िर के जलाए ज़ख़्मी था बहुत पाँव मसाफ़त भी बहुत थी सब दोस्त मिरे मुंतज़िर-ए-पर्दा-ए-शब थे दिन में तो सफ़र करने में दिक़्क़त भी बहुत थी बारिश की दुआओं में नमी आँख की मिल जाए जज़्बे की कभी इतनी रिफ़ाक़त भी बहुत थी कुछ तो तिरे...