Ghazal: Tha khud se door kisi dasht me ...By zeeshan Murtaza
غزل تھا خود سے دور کسی دشت میں پڑا ہوا میں تجھے ملا تو محبت سے آشنا ہوا میں نکل پڑا ہوں کسی بے نشان منزل کو فنا کے دشت میں سائے کو ہانکتا ہوا میں تمہیں خبر بھی ہے کن جنگلوں میں جا نکلا تمہارے بارے پرندوں سے پوچھتا ہوا میں پھر ایک موڑ پہ آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھا کہ چل پڑا تھا یونہی خواب دیکھتا ہوا میں خود اپنے آپ کو رستے میں بھول آیا ھوں کسی کے نقشِ کفِ پا کو ڈھونڈتا ہوا میں اسے بچاؤ یہ ساحل پہ چیختی ہوئی وہ مجھے بچاؤ یہ دریا میں ڈوبتا ہوا میں وہ لمحہ لمحہ زمانے کی بھیڑ میں بے خود یہ دورِ حبس کے صدمات جھیلتا ہوا میں بھرے جہان سے رختِ سفر سمیٹتا ہوں مرے شعور کے ریشے ادھیڑتا ہوا میں ۔ ذیشان مرتضیٰ "ग़ज़ल था ख़ुद से दूर किसी दश्त में पड़ा हुआ मैं तुझे मिला तो मोहब्बत से आश्ना हुआ मैं निकल पड़ा हूँ किसी बे-निशां मंज़िल को फ़ना के दश्त में साए को हाँकता हुआ मैं तुम्हें ख़बर भी है किन जंगलों में जा निकला तुम्हारे बारे परिंदों से पूछता हुआ मैं फिर एक मोड़ पे आँखों से हाथ धो बैठा कि चल पड़ा था यूंही ख़्वाब देखता...