Posts

Showing posts with the label falak

Ghazal: Kahin thi raakh kahin tha dhuan by Faqeeh Haidar

Image
کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ فلک ڈھکا تھا ستاروں سے جب زمیں تھی آگ جمے ہوئے لب و رخسار بھی دہک رہے تھے حصار موسم برفاب میں حسیں تھی آگ حدود جسم سے باہر نکل کے سرد لگی قیود جسم میں تھی جب تک تھی بر تریں تھی آگ عداوتوں میں نئے رنگ بھر رہا تھا وہ بغل میں سانپ تھے اور زیر آستیں تھی آگ ترا ٹھٹھرتا بدن بھی بجھا سکا نہ مجھے کچھ ایسے بر سر صحن بدن مکیں تھی آگ شب وصال کا احوال پوچھنا مت دوست پس قبائے غضب عطر عنبریں تھی آگ کمال کن نے رکھا پیاس میں جمال آب نہیں تھا جب کہیں پانی کہیں نہیں تھی آگ سفر کا بوجھ برابر رہا ہے دونوں پر جہاں جہاں بھی تھا پانی وہیں وہیں تھی آگ وجود لمس کی لذت سے نا شناس رہا وہ ہاتھ سرد تھا حیدرؔ مری جبیں تھی آگ  فقیہ حیدر कहीं थी राख कहीं था धुआँ कहीं थी आग फ़लक ढका था सितारों से जब ज़मीं थी आग जमे हुए लब-ओ-रुख़्सार भी दहक रहे थे हिसार-ए-मौसम-ए-बर्फ़ाब में हसीं थी आग हुदूद-ए-जिस्म से बाहर निकल के सर्द लगी क़ुयूद-ए-जिस्म में थी जब तक थी बर-तरीं थी आग अदावतों में नए रंग भर रहा था वो बग़ल में साँप थे और ज़ेर-ए-आस्तीं थी आग तिरा ठिठुरता बदन भी बुझा ...

Nazm ‎(نظم) ‏_Gumaan

Image
گمان کھڑی تھی کل جو ٹیرس پہ فلک کو تک رہی تھی میں  اچانک ہی نظر میری  ہوا کے دوش پہ اڑتے سکائ لارک پر پہنچی  اسے دیکھا ہواؤں سے جو میں نے گفتگو کرتے   اٹھی خواہش مرے دل میں  فضا میں سانس لوں کھل کے  اڑوں میں بھی کبھی ایسے    کہ چھو لوں آسماں جاکے  چلوں میں سنگ بادل کے  ہوا سے گفتگو کر لوں  ستاروں پہ قدم رکھ لوں  میں اپنی سوچ میں گم تھی  کہ اک آواز سے چونکی   پلٹ کے میں نے جو دیکھا  ہوئی حیران میں بالکل  کھڑی تھی رو برو میرے   پری صورت کوئی بچی  چھوئی موئی سی تھی بالکل  بنی ہو برف کی جیسے  کہ چھولوں میں اگر آسکو  پگھل جائے گی لمحے میں  کہ جیسے برف سورج کی تپش پا کے بنے پانی   سنہری کانچ سی آنکھیں  بڑی پر نور سی آنکھیں    لبوں پر مسکراہٹ تھی  کہ جیسے ہے بڑی گہری شناسائی  سنہری ڈور کے جیسا تعلق ہو ہمارے درمیاں کوئی   ہوئی مسحور میں ایسی  کئی لمحے کوئی حرکت نہ کر پائی   بڑھایا پھر قدم میں نے  اسے چھو کر ذرا دیکھوں ...