Safura Zergar
صفورہ زرگر گھنا اندھیرا تھا چاروں جانب دکھائی دیتا نہ رستہ کوئی طلوعِ سورج کے منتظر سب اسی جگہ پر ٹھہر گئے تھے مگر وہ تنہا نکل پڑی تھی اسے پتہ تھا کہ اپنے حصے کی روشنی کو تلاش کرنا پڑیگا خود ہی یہاں اجالا کبھی نہ ہوگا گھنے درختوں کے درمیاں کیا کرن کبھی بھی پہنچ سکی ہے کبھی نہ منزل ملے گی ہم کو تلاش _ منزل کی جستجو میں کسی کو ہمت تو کرنی ہوگی قدم وہ اپنا بڑھا رہی تھی عجب لگن تھی غضب کی دھن تھی یقیں کو آنچل میں اپنے باندھے ہزار مشکل سے لڑ پڑی تھی فلک نظر میں سما چکا تھا سراغ _ منزل وہ پا چکی تھی تبھی اچانک کسی نے اس کو دبوچا , کھینچا عجب ہی رستے پر لے چلا تھا وہ بے خبر تھی اندھیرا آنکھوں کو ڈس رہا تھا ہجومی وحشت کی آہٹوں کو وہ سن رہی تھی ہزار تہمت کے تیر جاں میں گڑے ہوۓ ہیں وہ اب قفس میں ہے قید لیکن لبوں پہ مسکان یے یقیں کا جلاٸ تھی جو مشال اس نے بجھی نہیں ...