Posts

Showing posts with the label Mohabbat

Ghazal: Rasta bhi kathin dhuup me shiddat bhi...by Perveen Shakir

Image
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی  پروین شاکر रस्ता भी कठिन धूप में शिद्दत भी बहुत थी साए से मगर उस को मोहब्बत भी बहुत थी खे़मे न कोई मेरे मुसाफ़िर के जलाए ज़ख़्मी था बहुत पाँव मसाफ़त भी बहुत थी सब दोस्त मिरे मुंतज़िर-ए-पर्दा-ए-शब थे दिन में तो सफ़र करने में दिक़्क़त भी बहुत थी बारिश की दुआओं में नमी आँख की मिल जाए जज़्बे की कभी इतनी रिफ़ाक़त भी बहुत थी कुछ तो तिरे...

Ghazal: sitaron se ulajhta ja raha hun by Firaq Gorakhpuri

Image
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر قیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبت ترے ہاتھوں میں لٹتا جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تیرے ستم کا کھل چکا ہے میں تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہیں میں راز ہیں گلباریوں کے میں جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد‌‌ جور‌ و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں وہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہو چلی ہے تجھے کچھ بھولتا سا جا رہا ہوں اجل بھی جن کو سن کر جھومتی ہے وہ نغمے زندگی کے گا رہا ہوں یہ سناٹا ہے میرے پاؤں کی چاپ فراقؔ اپنی کچھ آہٹ پا رہا ہوں فراق گورکھپوری सितारों से उलझता जा रहा हूँ शब-ए-फ़ुर्क़त बह...

Ghazal: Tha khud se door kisi dasht me ...By zeeshan Murtaza

Image
  غزل تھا خود سے دور کسی دشت میں پڑا ہوا میں  تجھے ملا تو محبت سے آشنا ہوا میں  نکل پڑا ہوں کسی بے نشان منزل کو  فنا کے دشت میں سائے کو ہانکتا ہوا میں  تمہیں خبر بھی ہے کن جنگلوں میں جا نکلا  تمہارے بارے پرندوں سے پوچھتا ہوا میں پھر ایک موڑ پہ آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھا  کہ چل پڑا تھا یونہی خواب دیکھتا ہوا میں  خود اپنے آپ کو رستے میں بھول آیا ھوں  کسی کے نقشِ کفِ پا کو ڈھونڈتا ہوا میں اسے بچاؤ یہ ساحل پہ چیختی ہوئی وہ  مجھے بچاؤ یہ دریا میں ڈوبتا ہوا میں وہ لمحہ لمحہ زمانے کی بھیڑ میں بے خود  یہ دورِ حبس کے صدمات جھیلتا ہوا میں  بھرے جہان سے رختِ سفر سمیٹتا ہوں  مرے شعور کے ریشے ادھیڑتا ہوا میں  ۔ ذیشان مرتضیٰ "ग़ज़ल था ख़ुद से दूर किसी दश्त में पड़ा हुआ मैं तुझे मिला तो मोहब्बत से आश्ना हुआ मैं निकल पड़ा हूँ किसी बे-निशां मंज़िल को फ़ना के दश्त में साए को हाँकता हुआ मैं तुम्हें ख़बर भी है किन जंगलों में जा निकला तुम्हारे बारे परिंदों से पूछता हुआ मैं फिर एक मोड़ पे आँखों से हाथ धो बैठा कि चल पड़ा था यूंही ख़्वाब देखता...

Ghazal: mohabbaton men jo mit mit ke shahkar hu by Ibrahim Ashk

Image
محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا وہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہوا تری ہی آس میں گزرے ہیں دھوپ چھاؤں سے ہم تری ہی پیاس میں صحرا بھی خوش گوار ہوا نہ جانے کتنی بہاروں کی دے گیا خوشبو وہ اک بدن جو ہمارے گلے کا ہار ہوا تمہارے بعد تو ہر اک قدم ہے بن باس ہمارا شہر کے لوگوں میں کب شمار ہوا خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا یہ ایک جان بھی لیتا ہے اشکؔ قسطوں میں ذرا سا کام بھی اس سے نہ ایک بار ہوا  ابراہیم اشک मोहब्बतों में जो मिट मिट के शाहकार हुआ वो शख़्स कितना ज़माने में यादगार हुआ तिरी ही आस में गुज़रे हैं धूप छाँव से हम तिरी ही प्यास में सहरा भी ख़ुश-गवार हुआ न जाने कितनी बहारों की दे गया ख़ुशबू वो इक बदन जो हमारे गले का हार हुआ तुम्हारे बाद तो हर इक क़दम है बन-बास हमारा शहर के लोगों में कब शुमार हुआ ख़ुद अपने आप से लेना था इंतिक़ाम मुझे मैं अपने हाथ के पत्थर से संगसार हुआ ये एक जान भी लेता है 'अश्क' क़िस्तों में ज़रा सा काम भी उस से न एक बार हुआ इब्राहीम अश्क mohabbatoñ meñ jo miT miT ke shāhkār huā vo shaḳhs kitnā zamāne meñ yādgā...

Ghazal: Zamin ka akhri manzar dekhai denelaga

Image
زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میں کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا میں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے لگا تجھے خبر ہی نہیں رات معجزہ جو ہوا اندھیرے کو، تجھے چھو کر، دکھائی دینے لگا کچھ اتنے غور سے دیکھا چراغ جلتا ہوا کہ میں چراغ کے اندر دکھائی دینے لگا پہنچ گیا تری آنکھوں کے اس کنارے تک جہاں سے مجھ کو سمندر دکھائی دینے لگا  شاہین عباس ज़मीं का आख़िरी मंज़र दिखाई देने लगा मैं देखता हुआ पत्थर दिखाई देने लगा वो सामने था तो कम कम दिखाई देता था चला गया तो बराबर दिखाई देने लगा निशान-ए-हिज्र भी है वस्ल की निशानियों में कहाँ का ज़ख़्म कहाँ पर दिखाई देने लगा वो इस तरह से मुझे देखता हुआ गुज़रा मैं अपने आप को बेहतर दिखाई देने लगा तुझे ख़बर ही नहीं रात मो'जिज़ा जो हुआ अँधेरे को, तुझे छू कर, दिखाई देने लगा कुछ इतने ग़ौर से देखा चराग़ जलता हुआ कि मैं चराग़ के अंदर दिखाई देने लगा पहुँच गया तिरी आँखों के उस किनार...

Firaq Gorakhpuri: bht pehle se un qadmon ki....

Image
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں ہماری ہر نظر تجھ سے ...

kaifi Azmi: Koi ye kaese btae

Image
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن ان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے کیفی اعظمی कोई ये कैसे बताए कि वो तन्हा क्यूँ है वो जो अपना था वही और किसी का क्यूँ है यही दुनिया है तो फिर ऐसी ये दुनिया क्यूँ है यही होता है तो आख़िर यही होता क्यूँ है इक ज़रा हाथ बढ़ा दें तो पकड़ लें दामन उन के सीने में समा जाए हमारी धड़कन इतनी क़ुर्बत है तो फिर फ़ासला इतना क्यूँ है दिल-ए-बर्बाद से निकला नहीं अब तक कोई इस लुटे घर पे दिया करता है दस्तक कोई आस जो टूट गई फिर से बंधाता क्यूँ है तुम मसर्रत का कहो या इसे ग़म का रिश्ता कहते हैं प्यार का रिश्ता है जनम का रिश्ता है जनम का जो ये रिश्ता तो बदलता ...

Mohsin Naqvi / Ghazal: Zikr-e- Shab-e-firaq se Vahshat use bhi thi

Image
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی محسن نقوی ज़िक्र-ए-शब-ए-फ़िराक़ से वहशत उसे भी थी मेरी तरह किसी से मोहब्बत उसे भी थी मुझ को भी शौक़ था नए चेहरों की दीद का रस्ता बदल के चलने की आदत उसे भी थी उस रात देर तक वो रहा महव-ए-गुफ़्तुगू मसरूफ़ मैं भी कम था फ़राग़त उसे भी थी मुझ से बिछड़ के शहर में घुल-मिल गया वो शख़्स हालाँकि शहर-भर से अदावत उसे भी थी वो मुझ से बढ़ के ज़ब्त का आदी था जी गया वर्ना हर एक साँस क़यामत उसे भी थी सुनता था वो भी ...

Ahmad Faraz/Ghazal: Ab aur kya kisi se marasim badhaen ham

Image
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز अब और क्या किसी से मरासिम बढ़ाएँ हम ये भी बहुत है तुझ को अगर भूल जाएँ हम सहरा-ए-ज़िंदगी में कोई दूसरा न था सुनते रहे हैं आप ही अपनी सदाएँ हम इस ज़िंदगी में इतनी फ़राग़त किसे नसीब इतना न याद आ कि तुझे भूल जाएँ हम तू इतनी दिल-ज़दा तो न थी ऐ शब-ए-फ़िराक़ आ तेरे रास्ते में सितारे लुटाएँ हम वो लोग अब कहाँ हैं जो कहते थे कल 'फ़राज़' हे हे ख़ुदा-न-कर्दा तुझे भी रुलाएँ हम  , अहमद फ़राज़ ab aur kya kisi se marasim badhaen ham ye bhi bahut hai tujh ko agar bhul jaaen ham sahra-e-zindagi men koi dusra na tha  sunte rahe hain aap hi apnī sadaen ham is zindagi men itni farāġhat kise nasib  itna na yaad aa ki tuj...

Perveen Shakir/Ghazal: Kuchh to Hawa bhi Sard thi

Image
  Kuchh to hawa bhi sard thi کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی پروین شاکر कुछ तो हवा भी सर्द थी कुछ था तिरा ख़याल भी दिल को ख़ुशी के साथ साथ होता रहा मलाल भी बात वो आधी रात की रात वो पूरे चा...

Poet _Fayyaz Hashmi - Aaj jaane ki zid na karo

Image
آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو ہائے مر جائیں گے، ہم تو لٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو آج جانے کی ضد نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم تم کو اپنی قسم جان جاں بات اتنی مری مان لو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو وقت کی قید میں زندگی ہے مگر چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں ان کو کھو کر مری جان جاں عمر بھر نا ترستے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں حسن اور عشق کی آج معراج ہے کل کی کس کو خبر جان جاں روک لو آج کی رات کو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو فیاض  ہاشمی  आज जाने की ज़िद न करो यूँ ही पहलू में बैठे रहो आज जाने की ज़िद न करो हाए मर जाएँगे, हम तो लुट जाएँगे ऐसी बातें किया न करो आज जाने की ज़िद न करो तुम ही सोचो ज़रा क्यूँ न रोकें तुम्हें जान जाती है जब उठ के जाते हो तुम तुम को अपनी क़सम जान-ए-जाँ बात इतनी मिरी मान लो आज जाने की ज़िद न करो यूँ ही पहलू में बैठे रहो आज जाने की ज़िद न करो वक़्त की क़ैद में ज़िंदगी ...

Ghazal_Poet _Faiz Ahmad Faiz

Image
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے فیض احمد فیض  दोनों जहान तेरी मोहब्बत में हार के वो जा रहा है कोई शब-ए-ग़म गुज़ार के वीराँ है मय-कदा ख़ुम-ओ-साग़र उदास हैं तुम क्या गए कि रूठ गए दिन बहार के इक फ़ुर्सत-ए-गुनाह मिली वो भी चार दिन देखे हैं हम ने हौसले पर्वरदिगार के दुनिया ने तेरी याद से बेगाना कर दिया तुझ से भी दिल-फ़रेब हैं ग़म रोज़गार के भूले से मुस्कुरा तो दिए थे वो आज 'फ़ैज़' मत पूछ वलवले दिल-ए-ना-कर्दा-कार के Faiz  Ahmad Faiz