Posts

Showing posts with the label نثری نظم

چاند پر چرخہ کاتتی بڑھیا

Image
چاند پر چرخہ کاتتی بڑھیا عقل و شعور کی دہلیز  پر  جب پاؤں میں نے دھرے نہ تھے نانی مجھ سے کہتی تھیں چاند پر اک بڑھیا رہتی ہے چرخہ کاتتی رہتی ہے میں جب چاند کو دیکھتی  تو اکثر سوچا کرتی تھی چاند پر چرخہ کاتتی بڑھیا تنہا کیسے رہتی ہے اتنی حسیں دنیا کو چھوڑ دور گگن میں جا کیوں بیٹھی ہے لیکن آج مجھے لگتا ہے یہ دنیا   بالکل ویسی  نہیں  میں جیسی  سمجھا کرتی  تھی اس انسانوں کی بستی میں پتھر کے دل  سب رکھتے ہیں بےحسی  کی دیواروں  میں خود کو  چن کر    مطمئن سب رہتے ہیں   کوئ بھوکا ہے کہ پیاسا ہے یہاں اس سے کسی کو غرض نہیں ظلم کا  ننگا ناچ یہاں ہے طاقتور کا  راج یہاں ہے محنت کش کا مول نہیں حق کا کوئی رول نہیں آواز کوئی  اٹھائے گر  تو خاموش کرادیتے ہیں اسکو مکر وفریب کا دشت  یہاں حرص و لالچ کے کھیتوں سے خودغرضی کی فصلیں اگتی ہیں ہمدردی کے چوغے میں مفاد چھپے ہوتے ہیں سب کے سانپ بنے سب بیٹھے ہیں کب موقع ملے کہ ڈس لیں یہ یہاں رشتے سارے جھوٹے ہیں ان ...

نظم ‎ ‏ ‏( ‎urdu ‎poems ‎)

A Long Walk Home (اے شہر زادو الوداع) جا رہے ہیں شہر اب ہم چھوڑ کر  اے شہر  زادو الوداع  لوٹ کر اب تو نہ آئیں گے کبھی بھی   یہ تمہارا شہر ہم کو  راس بالکل ہی نہ آیا مدتوں سے رہ رہے تھے خوں پسینہ دے رہے تھے آج بھوکے مر رہے تو پوچھنے والا نہ کوئی دیکھ لی یاری تمہاری ہو مبارک  تم کو اپنا شہر یارو جارہے ہیں ہم تو پیدل شہر زادو ہاں کٹھن ہے راستہ اور دور اپنا دیس بھی  لیکن ہمارے پاس بھی چارہ نہ کوئی  درمیان_اجنبی  مرنے سے بہتر تو یہی  اپنے گھروں کے راستے ہی مر مٹیں ہم جارہے ہیں شہر ہم اب چھوڑ کر  اے شہر زادو الوداع  شبنم فردوس