Posts

Showing posts with the label rat

Nazm : Khala Ka Tasalsul by Rashid Malik

Image
خلا کا تسلسل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی اس قدر تیز رفتار ہے دو گھڑی کا سمے بھی نہیں مل رہا کہ کہیں بیٹھ کر میں تجھے سوچ لوں سوچ لوں اے مرے اپنے ہاتھوں گنوائے ہوئے شخص ، بس دو گھڑی ۔۔۔۔ وقت رکتا نہیں  وقت بھی روشنی کی طرح برق رفتار ہے  وقت یونان کے بحر میں ڈوبتی نائو کے ہر مسافر کی دہشت سے پھیلی ہوئی آنکھ ہے وقت اٹلی کے ساحل پہ ساگر کی اگلی ہوئی لاش ہے  وقت بھیتر میں بیٹھا ہوا دائمی خوف ہے  وقت مرہم نہیں وقت اک گرد ہے  زخم کو تہہ بہ تہہ دفن کر دیتا ہے سالہا سال بعد ایک دن تیز جھکڑ چلے  گرد ہٹ جائے اور زخم ویسے کا ویسا ہی تازہ ملے  وقت گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھنے والے کی آنکھ سے قطرہ قطرہ نکلتا ہوا نور ہے  سرد رت میں پہاڑوں سے میدان کی سمت ریوڑ کے ساتھ آتے بنجاروں کی خفیہ آواز ہے  وقت چرواہے کی بانسری سے نکلتی ہوئی لے پہ چلتی ہوئی بکریوں کی خموشی کا اظہار ہے وقت گائوں کی ڈھلتی ہوئی شام ہے  وقت بہرام کا ساز ہے  بھیروی راگ ہے  وقت گزرے زمانوں کی تمثیل ہے وقت کوٹھے پہ بیٹھی ہوئی داشتہ ہے کوئی فٹ پاتھ پر سرد موسم میں ک...

Nazm : Umar ke Kinare per by Shereen Gul

Image
عمر کے کنارے پر آنسوؤں کے دھارے پر  بیٹھ کر اندھیرے میں سوچتی ہے وہ کب سے  زندگی کے رشتوں میں کس قدر خسارے ہیں  سانس کا تسلسل بھی امتحانِ عبرت ہے  درد کے کٹاؤ میں خواب بھی اذیت ہے  خواب کی اذیت میں اک سوال حیرت ہے  زخم_دل زیادہ ہیں یا کہ پھر ستارے ہیں شیریں گل  उम्र के किनारे पर आंसुओं की धारे पर बैठकर अंधेरे में सोचती है वह कब से ज़िंदगी के रिश्तों में किस कदर ख़सारे हैं सांस का तसल्सुल भी इम्तिहान-ए-इब्रत है दर्द के कटाओं में ख़्वाब भी अज़ीयत है ख़्वाब की अज़ीयत में एक सवाल-ए- हैरत है ज़ख़्म-ए-दिल ज़्यादा हैं या के फिर सितारे हैं शीरीं गुल  On the bank of time, on the streams of tears, Sitting in the darkness she ponders for hours  How much loss lies in the bonds of life, The rhythm of breath is a test of the lesson   In the cuts of pain, a dream even brings distress, In the torment of the dream, a question does impress, Are there more wounds in the heart or stars above? Shireen Gul   Translated by Shabnam Fi...