Posts

Showing posts with the label Javed Akhtar lyricist

،Ahmad Faraz __सुना है लोग उसे आँख भर के देखते हैं...

Image
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم...

Ghazal _Poet _Javed Akhtar जिधर जाते हैं सब जाना उधर अच्छा नहीं लगता

Image
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتی یہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالو کہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا جاوید اختر  जिधर जाते हैं सब जाना उधर अच्छा नहीं लगता मुझे पामाल रस्तों का सफ़र अच्छा नहीं लगता ग़लत बातों को ख़ामोशी से सुनना हामी भर लेना बहुत हैं फ़ाएदे इस में मगर अच्छा नहीं लगता मुझे दुश्मन से भी ख़ुद्दारी की उम्मीद रहती है किसी का भी हो सर क़दमों में सर अच्छा नहीं लगता बुलंदी पर उन्हें मिट्टी की ख़ुश्बू तक नहीं आती ये वो शाख़ें हैं जिन को अब शजर अच्छा नहीं लगता ये क्यूँ बाक़ी रहे आतिश-ज़नो ये भी जला डालो कि सब बे-घर हों और मेरा हो घर अच्छा नहीं लगता जावेद अख्तर

Ghazal (गजल)_poet _Javed Akhtar _अभी ज़मीर में थोड़ी सी जान बाक़ी हैअभी हमारा कोई इम्तिहान बाक़ी है

Image
ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے ابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہے ہمارے گھر کو تو اجڑے ہوئے زمانہ ہوا مگر سنا ہے ابھی وہ مکان باقی ہے ہماری ان سے جو تھی گفتگو وہ ختم ہوئی مگر سکوت سا کچھ درمیان باقی ہے ہمارے ذہن کی بستی میں آگ ایسی لگی کہ جو تھا خاک ہوا اک دکان باقی ہے وہ زخم بھر گیا عرصہ ہوا مگر اب تک ذرا سا درد ذرا سا نشان باقی ہے ذرا سی بات جو پھیلی تو داستان بنی وہ بات ختم ہوئی داستان باقی ہے اب آیا تیر چلانے کا فن تو کیا آیا ہمارے ہاتھ میں خالی کمان باقی ہے جاوید اختر  अभी ज़मीर में थोड़ी सी जान बाक़ी है अभी हमारा कोई इम्तिहान बाक़ी है हमारे घर को तो उजड़े हुए ज़माना हुआ मगर सुना है अभी वो मकान बाक़ी है हमारी उन से जो थी गुफ़्तुगू वो ख़त्म हुई मगर सुकूत सा कुछ दरमियान बाक़ी है हमारे ज़ेहन की बस्ती में आग ऐसी लगी कि जो था ख़ाक हुआ इक दुकान बाक़ी है वो ज़ख़्म भर गया अर्सा हुआ मगर अब तक ज़रा सा दर्द ज़रा सा निशान बाक़ी है ज़रा सी बात जो फैली तो दास्तान बनी वो बात ख़त्म हुई दास्तान बाक़ी है अब आया तीर चलाने का फ़न तो क्या आया हमारे हाथ में ख़ाली कमान बाक़ी ...