Posts

Showing posts with the label Rahat Indori

Rahat Indori - andhere charon taraf saaen saaen kerne lage

Image
اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے راحت اندوری अंधेरे चारों तरफ़ साएँ साएँ करने लगे चराग़ हाथ उठा कर दुआएँ करने लगे तरक़्क़ी कर गए बीमारियों के सौदागर ये सब मरीज़ हैं जो अब दवाएँ करने लगे लहू-लुहान पड़ा था ज़मीं पर इक सूरज परिंदे अपने परों से हवाएँ करने लगे ज़मीं पर आ गए आँखों से टूट कर आँसू बुरी ख़बर है फ़रिश्ते ख़ताएँ करने लगे झुलस रहे हैं यहाँ छाँव बाँटने वाले वो धूप है कि शजर इल्तिजाएँ करने लगे राहत इंदौरी  andhere charon taraf saaen saaen karne lage charagh haath utha kar duaen karne lage taraqqi kar gae bimariyon ke saudagar  ye sab mariz hain jo ab davaen karne lage lah...

Naya Ek rishta paeda kyu kren hum/ Poet _Jaun Eliya

Image
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم سنا دیں عصمت مریم کا قصہ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم برہنہ ہیں سر بازار تو کیا بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم چبا لیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچہ تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم پڑی ہیں دو انسانوں کی لاشیں زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم جون ایلیا  नया इक रिश्ता पैदा क्यूँ...

Poet _Rahat Indori/ Ghazal _haath ḳhālī haiñ tire shahr se jaate jaate

Image
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے راحت اندوری  हाथ ख़ाली हैं तिरे शहर से जाते जाते जान होती तो मिरी जान लुटाते जाते अब तो हर हाथ का पत्थर हमें पहचानता है उम्र गुज़री है तिरे शहर में आते जाते अब के मायूस हुआ यारों को रुख़्सत कर के जा रहे थे तो कोई ज़ख़्म लगाते जाते रेंगने की भी इजाज़त नहीं हम को वर्ना हम जिधर जाते नए फूल खिलाते जाते मैं तो जलते हुए सहराओं का इक पत्थर था तुम तो दरिया थे मिरी प्यास बुझाते जाते मुझ को रोने का सलीक़ा भी नहीं है शायद लोग हँसते हैं मुझे देख के आते जाते हम से पहले भी मुसाफ़िर कई गुज़रे होंगे कम से कम ...

،Ahmad Faraz __सुना है लोग उसे आँख भर के देखते हैं...

Image
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم...

Ghazal(गजल)_Poet_Rahat Indori

Image
दिलों में आग लबों पर गुलाब रखते हैं सब अपने चेहरों पे दोहरी नक़ाब रखते हैं हमें चराग़ समझ कर बुझा न पाओगे हम अपने घर में कई आफ़्ताब रखते हैं बहुत से लोग कि जो हर्फ़-आशना भी नहीं इसी में ख़ुश हैं कि तेरी किताब रखते हैं ये मय-कदा है वो मस्जिद है वो है बुत-ख़ाना कहीं भी जाओ फ़रिश्ते हिसाब रखते हैं हमारे शहर के मंज़र न देख पाएँगे यहाँ के लोग तो आँखों में ख़्वाब रखते हैं Rahat Indori دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں سب اپنے چہروں پہ دوہری نقاب رکھتے ہیں ہمیں چراغ سمجھ کر بجھا نہ پاؤ گے ہم اپنے گھر میں کئی آفتاب رکھتے ہیں بہت سے لوگ کہ جو حرف آشنا بھی نہیں اسی میں خوش ہیں کہ تیری کتاب رکھتے ہیں یہ مے کدہ ہے وہ مسجد ہے وہ ہے بت خانہ کہیں بھی جاؤ فرشتے حساب رکھتے ہیں ہمارے شہر کے منظر نہ دیکھ پائیں گے یہاں کے لوگ تو آنکھوں میں خواب رکھتے ہیں راحت اندوری