Posts

Showing posts with the label Cool urdu poetry

Rahat Indori - andhere charon taraf saaen saaen kerne lage

Image
اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے راحت اندوری अंधेरे चारों तरफ़ साएँ साएँ करने लगे चराग़ हाथ उठा कर दुआएँ करने लगे तरक़्क़ी कर गए बीमारियों के सौदागर ये सब मरीज़ हैं जो अब दवाएँ करने लगे लहू-लुहान पड़ा था ज़मीं पर इक सूरज परिंदे अपने परों से हवाएँ करने लगे ज़मीं पर आ गए आँखों से टूट कर आँसू बुरी ख़बर है फ़रिश्ते ख़ताएँ करने लगे झुलस रहे हैं यहाँ छाँव बाँटने वाले वो धूप है कि शजर इल्तिजाएँ करने लगे राहत इंदौरी  andhere charon taraf saaen saaen karne lage charagh haath utha kar duaen karne lage taraqqi kar gae bimariyon ke saudagar  ye sab mariz hain jo ab davaen karne lage lah...

Ghazal _ Tere nazdeek aa ker sochta hun By Rasa Chughtai

Image
ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں جہاں موج حوادث چاہے لے جائے خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں اگر یہ محفل بنت عنب ہے تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں غم اندیشہ ہائے زندگی کیا تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں  رسا چغتائی तिरे नज़दीक आ कर सोचत...

Ghazal: Hamara dil savere ka ...by Bashir Badr

Image
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے بشیر بدر  हमारा दिल सवेरे का सुनहरा जाम हो जाए चराग़ों की तरह आँखें जलें जब शाम हो जाए कभी तो आसमाँ से चाँद उतरे जाम हो जाए तुम्हारे नाम की इक ख़ूब-सूरत शाम हो जाए अजब हालात थे यूँ दिल का सौदा हो गया आख़िर मोहब्बत की हवेली जिस तरह नीलाम हो जाए समुंदर के सफ़र में इस तरह आवाज़ दे हम को हवाएँ तेज़ हों और कश्तियों में शाम हो जाए मुझे मालूम है उस का ठिकाना फिर कहाँ होगा परिंदा आसमाँ छूने में जब नाकाम हो जाए उजाले अपनी यादों के हमारे साथ रहने दो न जाने किस गली में ज़िंदगी की शाम हो जाए  बशीर बद्र hamara dil saver...

Nazm : Main Reg hun by Shabnam Firdaus

Image
میں ریگ ہوں سن دریا زاد  اشارے سے مجھکو بلاتا ہے کیوں ؟ نت نئے حربے سے لبھاتا ہے کیوں  تو اگر چاہتا ہے   ہو جاؤں میں گم   تحلیل ہو کر تجھ میں کہیں  تو مجھے بخش دے  لا کے بلیک ہول میں مجھکو گرنا نہیں ڈھل کے تجھ میں فنا ہرگز ہونا نہیں میں ریگ ہوں  ریگ ہی رہنے دے مجھکو ہواؤں کے سنگ اڑنے دے  شبنم فردوس  "I am sand, Listen, O river-born Why do you beckon me? Why do you tempt me daily with new allurements? If you so desire, I shall get, lost, Dissolving completely within you  Forgive me, I won't fall into the black hole of non-existence, Never to perish within you. I am sand Let me remain as sand, Let me soar with the winds. Shabnam Firdaus मैं रेग हूँ, सुन, दरिया ज़ाद, इशारे से मुझको बुलाता हैं क्यों?  नित नए हरबे से लुभाता हैं क्यों? तू अगर चाहता हैं, हो जाऊं मैं गुम, तहलील हो कर तुझ में कहीं, तो मुझे बख्श दे, ला के ब्लेक होल में मुझको गिरना नहीं, ढल के तुझ में फ़ना हरगिज़ होना नहीं। मैं रेग हूँ, रेग ही रहने दे,...

Ghazal: nigah-e-arzu-amoz ka charcha...by Hafeez Jalandhari

Image
غزل  نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے شرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائے انہیں احساس تمکیں ہو کہیں ایسا نہ ہو جائے جو ہونا ہو ابھی اے جرأت رندانہ ہو جائے بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو کوئی کم بخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے بہت ہی خوب شے ہے اختیاری شان خودداری اگر معشوق بھی کچھ اور بے پروا نہ ہو جائے ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے الٰہی دل نوازی پھر کریں وہ مے فروش آنکھیں الٰہی اتحاد شیشہ و پیمانہ ہو جائے مری الفت تعجب ہو گئی توبہ معاذ اللہ کہ منہ سے بھی نہ نکلے بات اور افسانہ ہو جائے یہ تنہائی کا عالم چاند تاروں کی یہ خاموشی حفیظؔ اب لطف ہے اک نعرۂ مستانہ ہو جائے  حفیظ جالندھری ग़ज़ल निगाह-ए-आरज़ू-आमोज़* का चर्चा न हो जाए* शरारत सादगी ही में कहीं रुस्वा न हो जाए उन्हें *एहसास-ए-तमकीं* हो कहीं ऐसा न हो जाए जो होना हो अभी ऐ *जुरअत-ए-रिंदाना* हो जाए ब-ज़ाहिर सादगी से मुस्कुरा कर देखने वालो कोई कम-बख़्त *ना-वाक़िफ़* अगर दीवाना हो जाए बहुत ही ख़ूब शय है इख़्तियारी शान-ए-ख़ुद्दारी अगर मा'शूक़ भी क...

Ghazal : mere jaese sahra hoker by Koki Gul

Image
غزل میرے جیسے ۔۔ صحرا ہو کر  جانو گے تم ..... تنہا ہو کر من میں مورت اسکی ہی ہے  دیکھا میں نے .... شیشہ ہو کر دل میں بھر جائے گا ۔۔ نفرت  دل کا سودا.... مہنگا ہو کر جھوٹی ہے یہ ۔۔۔۔ دنیا ساری  پائے گا کیا ..... سچا ہو کر مانگے ہے اب ۔ دن میں جگنو  کوکی کا دل . ۔۔۔۔۔۔۔ بچہ ہو کر کوکی گل Ghazal Mere jaise... sahra ho kar Janoge tum... tanha ho kar Man mein murat uski hi hai Dekha maine... sheesha ho kar Dil mein bhar jayega... nafrat Dil ka soda... mehnga ho kar Jhuti hai yeh... duniya saari Payega kya... sachcha ho kar Mange hai ab... din mein jugno Koki ka dil... bachcha ho kar Koki Gul ग़ज़ल  मेरे जैसे... सहरा हो कर जानोगे तुम... तन्हा हो कर मन में मूरत उसकी ही है देखा मैंने... शीशा हो कर दिल में भर जाएगा... नफ़रत  दिल का सौदा... महंगा हो कर झूठी है यह... दुनिया सारी पाएगा क्या... सच्चा हो कर मांगे है अब... दिन में जुगनू  कुकी का दिल... बच्चा हो कर कोकी गुल

Ghazal : Chale to kat hi jaega safar ..by Mustafa Zaidi

Image
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ مصطفیٰ زیدی  चले तो कट ही जाएगा सफ़र आहिस्ता आहिस्ता हम उस के पास जाते हैं मगर आहिस्ता आहिस्ता अभी तारों से खेलो चाँद की किरनों से इठलाओ मिलेगी उस के चेहरे की सहर आहिस्ता आहिस्ता दरीचों को तो देखो चिलमनों के राज़ तो समझो उठेंगे पर्दा-हा-ए-बाम-ओ-दर आहिस्ता आहिस्ता ज़माने भर की कैफ़ियत सिमट आएगी साग़र में पियो उन अँखड़ियों के नाम पर आहिस्ता आहिस्ता यूँही इक रोज़ अपने दिल का क़िस्सा भी सुना देना ख़िताब आहिस्ता आहिस्ता नज़र आहिस्ता आहिस्ता  मुस्तफा़ ज़ैदी  chale to kat hi jaega safar ahista ahista  ham us ke paas jaate hain magar ahista ahista  abhi taron se khelo Chand k...

Nazm : Zindagi Se Darte Ho by Noon Meem Rashid

Image
زندگی سے ڈرتے ہو؟ !زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں! زندگی سے ڈرتے ہو؟ آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے! حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ڈرتے ''ان کہی'' سے ڈرتے ہو جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کے پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی تم مگر یہ کیا جانو لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر نور کی زباں بن کر ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر روشنی سے ڈرتے ہو روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں روشنی سے ڈرتے ہو شہر کی فصیلوں پر دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر رات کا لبادہ بھی چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی ذات کی صدا آئی راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے اک نیا جنوں لپکے آدمی چھلک اٹھے آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو تم اب...

Nazm: Sab thath pada rahjavega by Nazeer Akbarabadi

Image
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا کیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گونیں پلا سر بھارا کیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا گر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے کیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے کیا داکھ منقےٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا تو بدھیا لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گا یا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا دھن دولت ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا ہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ جتنا ڈیرا ڈانڈا ہے زر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہے جب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہے پھر ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری رہ جاوے گی اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چر...

Nazm: Khidkiyan ( Windows) by Naseer Ahmad Nasir

Image
کھڑکیاں نصیر احمد ناصر کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں  دلوں کی ہوں، دماغوں کی مکانوں کی کہ آنکھوں کی  وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب،  روشنی اس پار کی اِس پار لاتی ہیں کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں  لبوں کے قفل ابجد کھولتی ہیں  کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بنتی ہے  تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں  کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں  زباں بندی کے دن بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں  فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں  ازل سے وقت کے جبری تسلسل میں  تھکن سے چرچراتے زنگ آلودہ زمانوں کی گواہی ہیں کھڑکیاں عورت کا دل رکھتی ہیں  خوشبو ،دھوپ ،بارش، چاند کی کرنیں  ہوا کے ایک جھونکے سے  بدن کے موسموں پر کھول دیتی ہیں  اڑا کر کاغذی پیکر  انوکھی خواہشوں میں زندگی کو رول دیتی ہیں کھڑکیوں کے سامنے جب تتلیاں پرواز کرتی ہیں  تو شیشوں سے لگی آنکھوں میں یادوں کی دوپہریں بھیگ جاتی ہیں  سفید و سرخ پهولوں سے لدی بیلیں  انھیں جب ڈھانپ لیتی ہیں ...

Ghazal: sitaron se ulajhta ja raha hun by Firaq Gorakhpuri

Image
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر قیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبت ترے ہاتھوں میں لٹتا جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تیرے ستم کا کھل چکا ہے میں تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہیں میں راز ہیں گلباریوں کے میں جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد‌‌ جور‌ و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں وہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہو چلی ہے تجھے کچھ بھولتا سا جا رہا ہوں اجل بھی جن کو سن کر جھومتی ہے وہ نغمے زندگی کے گا رہا ہوں یہ سناٹا ہے میرے پاؤں کی چاپ فراقؔ اپنی کچھ آہٹ پا رہا ہوں فراق گورکھپوری सितारों से उलझता जा रहा हूँ शब-ए-फ़ुर्क़त बह...

Nazm : Khala Ka Tasalsul by Rashid Malik

Image
خلا کا تسلسل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی اس قدر تیز رفتار ہے دو گھڑی کا سمے بھی نہیں مل رہا کہ کہیں بیٹھ کر میں تجھے سوچ لوں سوچ لوں اے مرے اپنے ہاتھوں گنوائے ہوئے شخص ، بس دو گھڑی ۔۔۔۔ وقت رکتا نہیں  وقت بھی روشنی کی طرح برق رفتار ہے  وقت یونان کے بحر میں ڈوبتی نائو کے ہر مسافر کی دہشت سے پھیلی ہوئی آنکھ ہے وقت اٹلی کے ساحل پہ ساگر کی اگلی ہوئی لاش ہے  وقت بھیتر میں بیٹھا ہوا دائمی خوف ہے  وقت مرہم نہیں وقت اک گرد ہے  زخم کو تہہ بہ تہہ دفن کر دیتا ہے سالہا سال بعد ایک دن تیز جھکڑ چلے  گرد ہٹ جائے اور زخم ویسے کا ویسا ہی تازہ ملے  وقت گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھنے والے کی آنکھ سے قطرہ قطرہ نکلتا ہوا نور ہے  سرد رت میں پہاڑوں سے میدان کی سمت ریوڑ کے ساتھ آتے بنجاروں کی خفیہ آواز ہے  وقت چرواہے کی بانسری سے نکلتی ہوئی لے پہ چلتی ہوئی بکریوں کی خموشی کا اظہار ہے وقت گائوں کی ڈھلتی ہوئی شام ہے  وقت بہرام کا ساز ہے  بھیروی راگ ہے  وقت گزرے زمانوں کی تمثیل ہے وقت کوٹھے پہ بیٹھی ہوئی داشتہ ہے کوئی فٹ پاتھ پر سرد موسم میں ک...

Ghazal: Dard halka hai saans bhari hai By Gulzar

Image
درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے جئے جانے کی رسم جاری ہے آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے رات کو چاندنی تو اوڑھا دو دن کی چادر ابھی اتاری ہے شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے کیسی چپ سی چمن پہ طاری ہے کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا آج کی داستاں ہماری ہے  گلزار दर्द हल्का है साँस भारी है जिए जाने की रस्म जारी है आप के ब'अद हर घड़ी हम ने आप के साथ ही गुज़ारी है रात को चाँदनी तो ओढ़ा दो दिन की चादर अभी उतारी है शाख़ पर कोई क़हक़हा तो खिले कैसी चुप सी चमन पे तारी है कल का हर वाक़िआ तुम्हारा था आज की दास्ताँ हमारी है गुलज़ार dard halka hai saans bhari hai jiye jaane ki rasm jaari hai aap ke baad har ghadi ham ne aap ke saath hi guzari hai raat ko Chandni to odha do din ki chadar abhi utari hai shakh par koi qahqaha to khile kaisi chup si chaman pe taari hai kal ka har vaqia tumhara tha  aaj ki dastan hamari hai Gulzar

Ghazal: Tha khud se door kisi dasht me ...By zeeshan Murtaza

Image
  غزل تھا خود سے دور کسی دشت میں پڑا ہوا میں  تجھے ملا تو محبت سے آشنا ہوا میں  نکل پڑا ہوں کسی بے نشان منزل کو  فنا کے دشت میں سائے کو ہانکتا ہوا میں  تمہیں خبر بھی ہے کن جنگلوں میں جا نکلا  تمہارے بارے پرندوں سے پوچھتا ہوا میں پھر ایک موڑ پہ آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھا  کہ چل پڑا تھا یونہی خواب دیکھتا ہوا میں  خود اپنے آپ کو رستے میں بھول آیا ھوں  کسی کے نقشِ کفِ پا کو ڈھونڈتا ہوا میں اسے بچاؤ یہ ساحل پہ چیختی ہوئی وہ  مجھے بچاؤ یہ دریا میں ڈوبتا ہوا میں وہ لمحہ لمحہ زمانے کی بھیڑ میں بے خود  یہ دورِ حبس کے صدمات جھیلتا ہوا میں  بھرے جہان سے رختِ سفر سمیٹتا ہوں  مرے شعور کے ریشے ادھیڑتا ہوا میں  ۔ ذیشان مرتضیٰ "ग़ज़ल था ख़ुद से दूर किसी दश्त में पड़ा हुआ मैं तुझे मिला तो मोहब्बत से आश्ना हुआ मैं निकल पड़ा हूँ किसी बे-निशां मंज़िल को फ़ना के दश्त में साए को हाँकता हुआ मैं तुम्हें ख़बर भी है किन जंगलों में जा निकला तुम्हारे बारे परिंदों से पूछता हुआ मैं फिर एक मोड़ पे आँखों से हाथ धो बैठा कि चल पड़ा था यूंही ख़्वाब देखता...

Nazm : Umar ke Kinare per by Shereen Gul

Image
عمر کے کنارے پر آنسوؤں کے دھارے پر  بیٹھ کر اندھیرے میں سوچتی ہے وہ کب سے  زندگی کے رشتوں میں کس قدر خسارے ہیں  سانس کا تسلسل بھی امتحانِ عبرت ہے  درد کے کٹاؤ میں خواب بھی اذیت ہے  خواب کی اذیت میں اک سوال حیرت ہے  زخم_دل زیادہ ہیں یا کہ پھر ستارے ہیں شیریں گل  उम्र के किनारे पर आंसुओं की धारे पर बैठकर अंधेरे में सोचती है वह कब से ज़िंदगी के रिश्तों में किस कदर ख़सारे हैं सांस का तसल्सुल भी इम्तिहान-ए-इब्रत है दर्द के कटाओं में ख़्वाब भी अज़ीयत है ख़्वाब की अज़ीयत में एक सवाल-ए- हैरत है ज़ख़्म-ए-दिल ज़्यादा हैं या के फिर सितारे हैं शीरीं गुल  On the bank of time, on the streams of tears, Sitting in the darkness she ponders for hours  How much loss lies in the bonds of life, The rhythm of breath is a test of the lesson   In the cuts of pain, a dream even brings distress, In the torment of the dream, a question does impress, Are there more wounds in the heart or stars above? Shireen Gul   Translated by Shabnam Fi...

Ghazal: Kahin thi raakh kahin tha dhuan by Faqeeh Haidar

Image
کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ فلک ڈھکا تھا ستاروں سے جب زمیں تھی آگ جمے ہوئے لب و رخسار بھی دہک رہے تھے حصار موسم برفاب میں حسیں تھی آگ حدود جسم سے باہر نکل کے سرد لگی قیود جسم میں تھی جب تک تھی بر تریں تھی آگ عداوتوں میں نئے رنگ بھر رہا تھا وہ بغل میں سانپ تھے اور زیر آستیں تھی آگ ترا ٹھٹھرتا بدن بھی بجھا سکا نہ مجھے کچھ ایسے بر سر صحن بدن مکیں تھی آگ شب وصال کا احوال پوچھنا مت دوست پس قبائے غضب عطر عنبریں تھی آگ کمال کن نے رکھا پیاس میں جمال آب نہیں تھا جب کہیں پانی کہیں نہیں تھی آگ سفر کا بوجھ برابر رہا ہے دونوں پر جہاں جہاں بھی تھا پانی وہیں وہیں تھی آگ وجود لمس کی لذت سے نا شناس رہا وہ ہاتھ سرد تھا حیدرؔ مری جبیں تھی آگ  فقیہ حیدر कहीं थी राख कहीं था धुआँ कहीं थी आग फ़लक ढका था सितारों से जब ज़मीं थी आग जमे हुए लब-ओ-रुख़्सार भी दहक रहे थे हिसार-ए-मौसम-ए-बर्फ़ाब में हसीं थी आग हुदूद-ए-जिस्म से बाहर निकल के सर्द लगी क़ुयूद-ए-जिस्म में थी जब तक थी बर-तरीं थी आग अदावतों में नए रंग भर रहा था वो बग़ल में साँप थे और ज़ेर-ए-आस्तीं थी आग तिरा ठिठुरता बदन भी बुझा ...

Ghazal: Zamin ka akhri manzar dekhai denelaga

Image
زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میں کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا میں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے لگا تجھے خبر ہی نہیں رات معجزہ جو ہوا اندھیرے کو، تجھے چھو کر، دکھائی دینے لگا کچھ اتنے غور سے دیکھا چراغ جلتا ہوا کہ میں چراغ کے اندر دکھائی دینے لگا پہنچ گیا تری آنکھوں کے اس کنارے تک جہاں سے مجھ کو سمندر دکھائی دینے لگا  شاہین عباس ज़मीं का आख़िरी मंज़र दिखाई देने लगा मैं देखता हुआ पत्थर दिखाई देने लगा वो सामने था तो कम कम दिखाई देता था चला गया तो बराबर दिखाई देने लगा निशान-ए-हिज्र भी है वस्ल की निशानियों में कहाँ का ज़ख़्म कहाँ पर दिखाई देने लगा वो इस तरह से मुझे देखता हुआ गुज़रा मैं अपने आप को बेहतर दिखाई देने लगा तुझे ख़बर ही नहीं रात मो'जिज़ा जो हुआ अँधेरे को, तुझे छू कर, दिखाई देने लगा कुछ इतने ग़ौर से देखा चराग़ जलता हुआ कि मैं चराग़ के अंदर दिखाई देने लगा पहुँच गया तिरी आँखों के उस किनार...

Firaq Gorakhpuri: bht pehle se un qadmon ki....

Image
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں ہماری ہر نظر تجھ سے ...

Zehra Nigaah / Nalzm :- Suna hai Jungalon ka bhi koi dastoor hota hai

Image
سنا ہے سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر! مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر!   زہرہ نگاہ   सुना है सुना है जंगलों का भी कोई दस्तूर होता है सुना है शेर का जब पेट भर जाए तो वो हमला नहीं करता दरख़्तों की घनी छाँव में जा कर लेट जाता है हवा के तेज़ झोंके जब दरख़्तों को हिलाते हैं तो मैना अपने बच्चे छोड़ कर कव्वे के अंडों को परों से थाम लेती है सुना है घोंसले से कोई बच्चा गिर पड़े तो सारा जंगल जाग जाता है स...

Ahmad Faraz/Ghazal: Ab aur kya kisi se marasim badhaen ham

Image
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز अब और क्या किसी से मरासिम बढ़ाएँ हम ये भी बहुत है तुझ को अगर भूल जाएँ हम सहरा-ए-ज़िंदगी में कोई दूसरा न था सुनते रहे हैं आप ही अपनी सदाएँ हम इस ज़िंदगी में इतनी फ़राग़त किसे नसीब इतना न याद आ कि तुझे भूल जाएँ हम तू इतनी दिल-ज़दा तो न थी ऐ शब-ए-फ़िराक़ आ तेरे रास्ते में सितारे लुटाएँ हम वो लोग अब कहाँ हैं जो कहते थे कल 'फ़राज़' हे हे ख़ुदा-न-कर्दा तुझे भी रुलाएँ हम  , अहमद फ़राज़ ab aur kya kisi se marasim badhaen ham ye bhi bahut hai tujh ko agar bhul jaaen ham sahra-e-zindagi men koi dusra na tha  sunte rahe hain aap hi apnī sadaen ham is zindagi men itni farāġhat kise nasib  itna na yaad aa ki tuj...