Posts

Showing posts with the label dil

Ghazal: Hamara dil savere ka ...by Bashir Badr

Image
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے بشیر بدر  हमारा दिल सवेरे का सुनहरा जाम हो जाए चराग़ों की तरह आँखें जलें जब शाम हो जाए कभी तो आसमाँ से चाँद उतरे जाम हो जाए तुम्हारे नाम की इक ख़ूब-सूरत शाम हो जाए अजब हालात थे यूँ दिल का सौदा हो गया आख़िर मोहब्बत की हवेली जिस तरह नीलाम हो जाए समुंदर के सफ़र में इस तरह आवाज़ दे हम को हवाएँ तेज़ हों और कश्तियों में शाम हो जाए मुझे मालूम है उस का ठिकाना फिर कहाँ होगा परिंदा आसमाँ छूने में जब नाकाम हो जाए उजाले अपनी यादों के हमारे साथ रहने दो न जाने किस गली में ज़िंदगी की शाम हो जाए  बशीर बद्र hamara dil saver...

Nazm: Khidkiyan ( Windows) by Naseer Ahmad Nasir

Image
کھڑکیاں نصیر احمد ناصر کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں  دلوں کی ہوں، دماغوں کی مکانوں کی کہ آنکھوں کی  وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب،  روشنی اس پار کی اِس پار لاتی ہیں کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں  لبوں کے قفل ابجد کھولتی ہیں  کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بنتی ہے  تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں  کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں  زباں بندی کے دن بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں  فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں  ازل سے وقت کے جبری تسلسل میں  تھکن سے چرچراتے زنگ آلودہ زمانوں کی گواہی ہیں کھڑکیاں عورت کا دل رکھتی ہیں  خوشبو ،دھوپ ،بارش، چاند کی کرنیں  ہوا کے ایک جھونکے سے  بدن کے موسموں پر کھول دیتی ہیں  اڑا کر کاغذی پیکر  انوکھی خواہشوں میں زندگی کو رول دیتی ہیں کھڑکیوں کے سامنے جب تتلیاں پرواز کرتی ہیں  تو شیشوں سے لگی آنکھوں میں یادوں کی دوپہریں بھیگ جاتی ہیں  سفید و سرخ پهولوں سے لدی بیلیں  انھیں جب ڈھانپ لیتی ہیں ...