Ghazal: nigah-e-arzu-amoz ka charcha...by Hafeez Jalandhari
غزل نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے شرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائے انہیں احساس تمکیں ہو کہیں ایسا نہ ہو جائے جو ہونا ہو ابھی اے جرأت رندانہ ہو جائے بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو کوئی کم بخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے بہت ہی خوب شے ہے اختیاری شان خودداری اگر معشوق بھی کچھ اور بے پروا نہ ہو جائے ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے الٰہی دل نوازی پھر کریں وہ مے فروش آنکھیں الٰہی اتحاد شیشہ و پیمانہ ہو جائے مری الفت تعجب ہو گئی توبہ معاذ اللہ کہ منہ سے بھی نہ نکلے بات اور افسانہ ہو جائے یہ تنہائی کا عالم چاند تاروں کی یہ خاموشی حفیظؔ اب لطف ہے اک نعرۂ مستانہ ہو جائے حفیظ جالندھری ग़ज़ल निगाह-ए-आरज़ू-आमोज़* का चर्चा न हो जाए* शरारत सादगी ही में कहीं रुस्वा न हो जाए उन्हें *एहसास-ए-तमकीं* हो कहीं ऐसा न हो जाए जो होना हो अभी ऐ *जुरअत-ए-रिंदाना* हो जाए ब-ज़ाहिर सादगी से मुस्कुरा कर देखने वालो कोई कम-बख़्त *ना-वाक़िफ़* अगर दीवाना हो जाए बहुत ही ख़ूब शय है इख़्तियारी शान-ए-ख़ुद्दारी अगर मा'शूक़ भी क...