Posts

Showing posts with the label zakhm

Nazm : Chalo Chhodo by Mohsin Naqvi

Image
 چلو چھوڑو  چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار‌ ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا مجھے احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں چلو چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے چلو چھوڑو مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو مرے خوابوں کو مرنے دو نئی تصویر دیکھو پھر نیا مکتوب لکھو پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو مرے ماضی ...

Ghazal: Rasta bhi kathin dhuup me shiddat bhi...by Perveen Shakir

Image
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی  پروین شاکر रस्ता भी कठिन धूप में शिद्दत भी बहुत थी साए से मगर उस को मोहब्बत भी बहुत थी खे़मे न कोई मेरे मुसाफ़िर के जलाए ज़ख़्मी था बहुत पाँव मसाफ़त भी बहुत थी सब दोस्त मिरे मुंतज़िर-ए-पर्दा-ए-शब थे दिन में तो सफ़र करने में दिक़्क़त भी बहुत थी बारिश की दुआओं में नमी आँख की मिल जाए जज़्बे की कभी इतनी रिफ़ाक़त भी बहुत थी कुछ तो तिरे...

Nazm : Umar ke Kinare per by Shereen Gul

Image
عمر کے کنارے پر آنسوؤں کے دھارے پر  بیٹھ کر اندھیرے میں سوچتی ہے وہ کب سے  زندگی کے رشتوں میں کس قدر خسارے ہیں  سانس کا تسلسل بھی امتحانِ عبرت ہے  درد کے کٹاؤ میں خواب بھی اذیت ہے  خواب کی اذیت میں اک سوال حیرت ہے  زخم_دل زیادہ ہیں یا کہ پھر ستارے ہیں شیریں گل  उम्र के किनारे पर आंसुओं की धारे पर बैठकर अंधेरे में सोचती है वह कब से ज़िंदगी के रिश्तों में किस कदर ख़सारे हैं सांस का तसल्सुल भी इम्तिहान-ए-इब्रत है दर्द के कटाओं में ख़्वाब भी अज़ीयत है ख़्वाब की अज़ीयत में एक सवाल-ए- हैरत है ज़ख़्म-ए-दिल ज़्यादा हैं या के फिर सितारे हैं शीरीं गुल  On the bank of time, on the streams of tears, Sitting in the darkness she ponders for hours  How much loss lies in the bonds of life, The rhythm of breath is a test of the lesson   In the cuts of pain, a dream even brings distress, In the torment of the dream, a question does impress, Are there more wounds in the heart or stars above? Shireen Gul   Translated by Shabnam Fi...