Nazm (نظم) _Gumaan
گمان کھڑی تھی کل جو ٹیرس پہ فلک کو تک رہی تھی میں اچانک ہی نظر میری ہوا کے دوش پہ اڑتے سکائ لارک پر پہنچی اسے دیکھا ہواؤں سے جو میں نے گفتگو کرتے اٹھی خواہش مرے دل میں فضا میں سانس لوں کھل کے اڑوں میں بھی کبھی ایسے کہ چھو لوں آسماں جاکے چلوں میں سنگ بادل کے ہوا سے گفتگو کر لوں ستاروں پہ قدم رکھ لوں میں اپنی سوچ میں گم تھی کہ اک آواز سے چونکی پلٹ کے میں نے جو دیکھا ہوئی حیران میں بالکل کھڑی تھی رو برو میرے پری صورت کوئی بچی چھوئی موئی سی تھی بالکل بنی ہو برف کی جیسے کہ چھولوں میں اگر آسکو پگھل جائے گی لمحے میں کہ جیسے برف سورج کی تپش پا کے بنے پانی سنہری کانچ سی آنکھیں بڑی پر نور سی آنکھیں لبوں پر مسکراہٹ تھی کہ جیسے ہے بڑی گہری شناسائی سنہری ڈور کے جیسا تعلق ہو ہمارے درمیاں کوئی ہوئی مسحور میں ایسی کئی لمحے کوئی حرکت نہ کر پائی بڑھایا پھر قدم میں نے اسے چھو کر ذرا دیکھوں ...