Nazm_Maan Ager Tum Na Hoti_Poet _Shabnam Firdaus
ماں اگر تم نہ ہوتی ماں اگر تم نہ ہوتی جیون سارتھک نہ ہوتا جیون کی اس گاتھا میں ایک قدم آگے نہ بڑھتی دکھ نے جب جب گھیرا مجھکو سینے سے لپٹا کر تم مجھکو ہمت دیتی تھی چپکے ، چپکے روتی تھی تم نے ہی تو سیکھایا تھا دکھ کو پشت پہ لادے کیسے آگے بڑھتے رہنا ہے ٹیڑھے ،میڑھے رستے پر بے خوف و خطر کیسے چلنا ہے تم ہی تو یہ کہتی تھی جیون کے اس رستے میں ایسی بھی کچھ جا ملے گی دور تلک پانی نہ ہوگا پیاس سے لب یہ سوکھیں گے لیکن تم گھبرانا مت ایڑی کے گھس گھس جانے سے ہمت ہار نہ جانا تم ایڑی کے گھسنے سے یی منزل تم پاؤ گی، گڑیا ماں اگر تم نہ ہوتی تو جیون کی نیا کو کھیتے بیچ بھنور میں ذوب ہی جاتی تم نے ہی تو سکھلایا تھا ناؤ کو کھینے ، مجدھاروں سے بچ کے نکلنے کا فن مجھ کو ماں اگر تم نہ ہوتی تو جیون کے اس رنگ منچ پہ ہرگز ٹک نہ پاتی میں تم سے ہی تو گیان ملا ہے ...