Posts

Showing posts with the label Udasi shayari

Gulzar | Nazm: Kitaben Jhankti hain

Image
کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے بڑی حسرت سے تکتی ہیں جو قدریں وہ سناتی تھیں کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں جو رشتے وہ سناتی تھیں وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے بہت سی اصطلاحیں ہیں جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں گلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالا زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا اب انگلی کلک کرنے سے بس اک جھپکی گزرتی ہے بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے کبھی گودی میں لیتے تھے کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھی مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے ...

Nazm (Kavita)___Makdi Jaal ,Poet__Shabnam Firdaus

Image
مکڑی جال جبیں پر شکن  رخ پہ رنج و الم ماتمی آنکھیں لے کے  یوں بیٹھے ہو کیوں تم ؟  اٹھو !  مکڑی جالے کو توڑو  اندھیرے کو چیرو  مرے پاس آؤ میں اب بھی وہیں ہوں  جہاں تم نے چھوڑا ہمیشہ سے ہوں  منتظر میں تو باہیں پسارے  مری آنکھیں کب  سے تمہاری ہی دہلیز پر  تھیں   مرے کان کب سے تمہاری ہی دیوار سے تھے  لگے  کب  مجھے تم صدا دو مری اور دیکھو  کبھی خود کو دیکھا بھی ہے  آئینے میں کہ تم  کیا سے کیا ہوگئے  ان دنوں میں  مگر خود کو کیسے بھلا دیکھتے تم فصیلیں جو اونچی اٹھائی تھیں  تم نے کہیں کوئی روزن دیا ہی نہیں  اندھیرا اندھیرا بلا کا اندھیرا ہے مکڑی کا ڈیرا پھنسے کوئی اس میں  نکل ہی نہ پائے  مگر اس اندھیرے سے تم کو ضیا کھینچنی ہے  اٹھو! مکڑی جالے کو توڑو اندھیرے کو چیرو  میرے پاس آؤ شبنم فردوس मकड़ी जाल *जबीं* पर *शिकन* *रुख़* पे *रंजो अलम*  मातमी आंखें ले के यूं बैठे हो क्यों तुम ? उठो । मकड़ी जाले को तोड़ो  अंधेरे को चीरो मेरे पास आओ मैं अब भी वहीं हूं...