بہت ٹوٹا ہوا ہے دل
خدایا کیوں کیا پیدا؟ کیوں بانٹا اتنے رشتوں میں ؟ خطا میری بھلا کیا ہے؟ نبھاتی دل سے ہوں رشتہ؟ کبھی خودغرض ہوئی نہ میں خطا میری یہی ہے کیا؟ نچھاور کردیا خود کو میں نے سارے رشتوں پر۔ مگر ہر چار دن پر کیوں کھڑی کٹھگھڑے میں ہوتی ہوں؟ محبت کا ثبوت کیوں مجھ سے مانگا جاتا ہے ؟ مری ذات پر جو داغ ہے مٹتا نہیں ہے کیوں؟ یقیں میری محبت کا کسی کو کیوں نہیں آتا؟ خدایا تھک گئی ہوں میں بہت ٹوٹا ہوا ہے دل کبھی شاید نہ اب سنبھلوں بلالے پاس تو اپنے مجھے چھٹکارہ اب دے دے